محسن عباس حیدرنے اہلیہ کی طرف سے لگائے گئے الزامات مسترد کر دیئے

اکستانی گلوکار اور اداکار محسن عباس حیدر نے اپنی اہلیہ کی جانب سے عائد کیے گئے گھریلو تشدد کے الزامات کو من گھڑت قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے۔

محسن عباس کی اہلیہ فاطمہ سہیل نے سوشل میڈیا پر سنیچر کو اپنی تصاویر شیئر کی تھیں اور الزام لگایا تھا کہ محسن عباس ان پر تشدد کرتے رہے ہیں اور ان کے کراچی کی ایک ماڈل سے تعلقات ہیں۔

فاطمہ سہیل کا کیا کہنا ہے؟
فاطمہ سہیل نے سوشل میڈیا پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ ’ظلم برداشت کرنا بھی گناہ ہے!‘

یہ بھی پڑھیے:
محسن عباس حیدر کی اہلیہ کا شوہر پر تشدد کرنے اور دھوکہ دینے کا الزام

انھوں نے اپنی کہانی بیان کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ انھوں نے نومبر 2018 میں اپنے شوہر کو انھیں دھوکہ دیتے ہوئے پکڑا اور اس بارے میں سوال کرنے پر محسن نے شرمندہ ہونے کی بجائے انھیں تشدد کا نشانہ بنایا۔

ان کا کہنا تھا کہ ’26 نومبر 2018 کو میں نے اپنے شوہر کو مجھے دھوکہ دیتے پکڑ لیا۔ جب میں نے ان سے اس بارے میں پوچھا تو بجائے شرمندہ ہونے کے انھوں نے مجھے مارنا شروع کر دیا۔ انھوں نے مجھے بالوں سے پکڑ کر کھینچا، فرش پر گھسیٹا، کئی بار مجھے لاتیں ماریں، میرے چہرے پر گھونسا مارا اور مجھے دیوار کے ساتھ پٹخ دیا۔‘

فاطمہ نے دعویٰ کیا کہ جب یہ واقعہ پیش آیا تو وہ حاملہ تھیں۔

انھوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ محسن عباس حیدر کی جانب سے سوشل میڈیا پر ڈپریشن سے متعلق پوسٹس بھی صرف توجہ حاصل کرنے کے لیے کی گئی تھیں۔

فاطمہ نے یہ بھی دعویٰ کیا 17 جولائی 2019 کو جب انھوں نے اپنے شوہر کے گھر جا کر بچے کی ذمہ داری اٹھانے کے لیے کہا تو انھوں نے پھر ان پر تشدد کیا۔

فاطمہ نے اپنے پیغام میں لکھا کہ ’سچ بتا دیا گیا ہے۔ مسٹر محسن اب میں آپ کو عدالت میں ملوں گی۔‘

فاطمہ سہیل کی جانب سے اس سلسلے میں لاہور کے علاقے ڈیفینس کے سی بلاک کے تھانے میں درخواست بھی دی گئی ہے۔

سوشل میڈیا پر اپنے پیغام میں فاطمہ سہیل نے تشدد سے آنے والی چوٹوں کی تصاویر کے ساتھ پولیس کو کی گئی اس شکایت کا عکس بھی شیئر کیا ہے۔

محسن عباس کا جواب
ان الزامات کے بعد لاہور پریس کلب میں اتوار کی شب اپنے وکیل کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے محسن عباس کا کہنا تھا کہ ان کی اہلیہ نے تشدد کی جو مبینہ تصاویر سوشل میڈیا پر شئیر کی ہیں وہ چوٹیں انھیں سیڑھیوں سے پھسل کر گرنے کے نتیجے میں لگی تھیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ان کی اہلیہ نے ان پر چند دن قبل تشدد کے الزامات لگائے ہیں تو وہ اس تشدد کے بارے میں کوئی میڈیکل رپورٹ پولیس کے پاس جمع کیوں نہیں کرواتیں۔

’میڈیکل رپورٹ کہاں ہے۔ آپ کے جو نشانات ہیں، آپ کہتی ہیں اس نے مجھے بہت مارا، وہ نشانات کہاں ہیں، کوئی تازہ تصاویر دکھائیں۔‘

محسن عباس کا کہنا تھا کہ وہ خود پولیس میں اپنا بیان ریکارڈ کرا چکے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ‘میں ابھی تھانے سے ہو کر آیا ہوں اور اپنا بیان ریکارڈ کرا کر آیا ہوں ۔آپ پولیس کے بلانے پر چلی ہی جائیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ان کا نمبر ہی نہیں مل رہا ہے۔’

انھوں نے اپنی اہلیہ فاطمہ سہیل سے سوال کیا کہ وہ پولیس کے پاس ثبوت لے کر جانے سے گریزاں کیوں ہیں؟

تاہم اس پریس کانفرنس کے اختتام پر جب بی بی سی نے فاطمہ سہیل کی درخواست پر تحقیقات کرنے والے لاہور کے تھانہ ڈیفینس سی کے تفیتیشی افسر عبدالرزاق سے تصدیق کرنے کے لیے رابطہ کیا تو ان کا کہنا تھا کہ تاحال محسن عباس نے اس سلسلے میں ان سے کوئی رابطہ نہیں کیا ہے۔

محسن عباس کا کہنا تھا کہ ان کی اور فاطمہ سہیل کے درمیان چھ ماہ سے علیحدگی ہو چکی ہے اور اس حالیہ تنازع کی وجہ ان کی دوسری شادی کی خواہش بنی ہے۔

محسن عباس کا کہنا تھا کہ جب انھوں نے اپنی اہلیہ سے علیحدگی کے بعد دوسری شادی کے بارے میں ان سے بات کی تو وہ بھڑک اٹھیں۔

خیال رہے کہ فاطمہ سہیل نے ان پر کراچی کی ایک ماڈل سے تعلقات کا الزام بھی عائد کیا ہے۔

محسن عباس کا دعوی تھا کہ ان کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کو ہیک کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ انھوں نے کہا کہ’فیس بک اکاؤنٹس فاطمہ کے پاس ہیں، میرا انسٹا گرام میرے سوشل اکاؤنٹ اس وقت میرے ہاتھ میں نہیں ہیں۔’

ان کا کہنا تھا کہ اس معاملے میں سوشل میڈیا پر ان سے منسوب جو بھی پیغامات اور تبصرے شائع ہو رہے ہیں، وہ ان کے نہیں ہیں اور ان کا اس تمام مواد سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

فاطمہ سہیل کے اس پوسٹ کے بعد پاکستان میں ٹوئٹر پر ہیش ٹیگ محسن عباس حیدر، فاطمہ سہیل اور گھریلو تشدد ٹرینڈ کر رہا ہے۔

واضح رہے کہ محسن عباس اور فاطمہ سہیل کی شادی سنہ 2015 میں ہوئی تھی۔

شادی سے قبل فاطمہ سہیل بھی ایک نجی ٹی وی چینل میں نیوز اینکر تھیں تاہم شادی کے بعد انھوں نے میڈیا انڈسٹری کو خیر باد کہہ دیا تھا۔ اکتوبر 2017 میں اس جوڑے کے ہاں بیٹی کی پیدائش ہوئی جو کہ ایک ماہ بعد انتقال کر گئی تھی۔

بیٹی کی وفات کے بعد محسن عباس اکثر سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر اپنے ڈپریشن اور پریشانی سے متعلق بیانات شیئر کرتے رہے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں